ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منموہن سے مودی حکومت تک کسانوں کی آمدنی میں صرف ڈھائی ہزار روپے کا اضافہ 

منموہن سے مودی حکومت تک کسانوں کی آمدنی میں صرف ڈھائی ہزار روپے کا اضافہ 

Mon, 14 Dec 2020 20:50:12    S.O. News Service

نئی دہلی،14دسمبر(آئی این ایس انڈیا) تینوں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں دوہفتے ہوئے ہیں لیکن احتجاج کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ کسان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے پرقائم ہیں۔ جبکہ حکومت کسانوں کے مطابق اس میں ترمیم کرنے کے لیے تیارہے۔ حکومت خود کو کاشتکاروں کی دوست بھی قراردیتی ہے۔

حکومت نے 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا ہدف مقررکیاہے۔ لیکن ایسی صورتحال میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کسان کتنا کماتا ہے؟اس کو جاننے کے لیے دینک بھاسکرنے مودی حکومت اور منموہن حکومت کے دوران کیے گئے دو  سروے کی مددلی۔ ان دونوں سروے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتاہے کہ کسانوں کی کمائی مودی حکومت میں نہیں منموہن حکومت میں زیادہ تھی۔

منموہن حکومت میں کیے گئے سروے میں، کسانوں کی ماہانہ آمدنی 6426 روپے بتائی گئی تھی۔ جبکہ مودی سرکار میں کیے گئے سروے میں کسانوں کی کمائی 8931 روپے تھی۔ یعنی منموہن سے مودی حکومت تک، کسانوں کی ماہانہ آمدنی میں صرف 2 ہزار 505 روپے کا اضافہ ہوا۔صرف یہی نہیں، ملک کے 22.5فی صد کسان خط افلاس سے نیچے آتے ہیں، یعنی ہر 10 کسانوں میں سے 2۔ ان میں سے زیادہ سے زیادہ 45.3فی صدکاتعلق جھارکھنڈ سے ہے۔ پنجاب میں صرف 0.5فی صد کسان  خط افلاس سے نیچے ہیں جبکہ ہریانہ میں یہ تعداد 4.3 فیصدہے۔


Share: